امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر لگی تمام پرانی پابندیاں ختم کر دی ہیں اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو دنیا کا سب سے جدید اور خطرناک ترین مانا جانے والا ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیارہ بیچنے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بھارت اور اسرائیل میں ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکا کے اس فیصلے سے ترکیہ میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اسرائیل اور بھارت میں تشویش پھیل گئی ہے۔ اسرائیل کو ڈر ہے کہ ترکیہ کے پاس یہ طیارہ آنے سے اس کی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی، جبکہ بھارت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ترکیہ کا جگری یار پاکستان ہے، کہیں یہ طیارہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو جائے۔
یہ سارا قصہ سمجھنے کے لیے ہمیں چند سال پیچھے جانا پڑے گا۔
ترکیہ اور امریکا پرانے فوجی دوست ہیں لیکن سال 2017 میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے روس سے اس کا ایک جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ’ایس 400‘ خریدنے کا فیصلہ کیا۔
امریکا نے ترکیہ کو بہت دھمکایا کہ اگر اس نے روس کا یہ نظام خریدا تو وہ ایف 35 طیارے کا ریڈار سگنیچر پکڑلے گا اور یہ خفیہ معلومات روس کے ہاتھ لگ جائے گی۔
جب ترکیہ نے امریکا کی بات نہیں مانی تو سال 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ترکیہ کو اس طیارے کی فروخت کے پروگرام سے باہر نکال دیا اور سال 2020 میں اس پر سخت معاشی پابندیاں لگا دیں۔
امریکا کی پابندی کے بعد ترکیہ نے اپنا ففتھ جنریشن طیارے بنانے کی تیاری شروع کی۔ جس کے بعد ’ٹی اے آئی کان‘ جسے پہلے ’ٹی ایف ایکس‘ کہا جاتا تھا، وہ تیار کیا گیا۔ یہ ترکیہ کا پانچویں نسل کا، دو انجنوں والا اور ہر طرح کے موسم میں فضائی برتری قائم کرنے والا اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے۔
ترکیہ کو ایف 35 پروگرام سے نکالے جانے کے بعد اسے ’ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز‘ نے خود تیار کیا، اور اس طیارے نے فروری 2024 میں اپنی پہلی کامیاب اڑان بھری تھی۔
اس منصوبے کا مقصد فوج کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور مکمل خود انحصاری حاصل کرنا ہے، جس کے تحت اس کی ابتدائی سپلائی 2028 میں متوقع ہے جبکہ اسے باضابطہ طور پر 2029 تک فوج کا حصہ بنا لیا جائے گا۔
لیکن، اب سات سال بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر اردوان سے ملاقات کے بعد اس فیصلے کو الٹ دیا ہے۔








































