چین کی وزارتِ تجارت نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو ملک کی کنزیومر اکانومی میں وسیع پیمانے پر شامل کرنے کے لیے 17 پالیسی اقدامات کا اعلان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ اے آئی ٹیکنالوجی کو صرف صنعتی استعمال تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے گھریلو اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت چاہتی ہے کہ صارفین کے لیے تیار ہونے والے الیکٹرانک آلات کو روایتی آلات کے بجائے مکمل طور پر اے آئی سے مربوط نظاموں میں تبدیل کیا جائے۔
پالیسیوں میں خاص طور پر ایک نئی منڈی بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کا مقصد ملک میں ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ چین اس شعبے کو اپنی ترجیحی صنعتوں میں شامل کر چکا ہے۔
چین میں ہیومنائیڈ روبوٹکس کی صنعت کو حالیہ برسوں میں سرکاری اور نجی سطح پر بھاری سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے، جس میں یونٹری اور یو بی ٹیک جیسی کمپنیاں صنعتی اور صارفین دونوں مارکیٹوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
سروسز کے شعبے سے متعلق اقدامات کا مقصد بھی معیشت میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو بڑھانا ہے جو ریٹیل سروسز سے لے کر عوامی اور ذاتی خدمات تک پھیل جائے گا۔
وزارتِ تجارت کے بین الاقوامی تجارتی تعاون ادارے کے نائب ڈائریکٹر لن جیان نے کہا کہ یہ اقدامات چین کے سروس سیکٹر کے ایک دیرینہ ساختی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہیں۔
انہوں نے سی سی ٹی وی کے مطابق کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سروسز میں بلند لیبر لاگت اور کم معیاری نظام کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔









































