کیا آپ کو رات کا کھانا کھانے کے فوراً بعد کچھ میٹھا کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے؟ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ جسم میں کسی خاص وٹامن یا معدنیات کی کمی ہوسکتی ہے، لیکن غذائی ماہرین کے مطابق ہر بار ایسا ہونا ضروری نہیں۔

کلینیکل نیوٹریشنسٹ راشی چودھری نے اپنے مشاہدے کا ذکر کرتے ہوئے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ مشاورت کے دوران مختلف عمر اور حالات کے لوگوں سے ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں، ’میں دن بھر اچھا کھاتا ہوں، لیکن رات کے کھانے کے بعد ہمیشہ کچھ میٹھا کھانے کو دل کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر عام ہوگیا ہے کہ ہر قسم کی کھانے کی خواہش جسم کی طرف سے کسی خاص کمی کا اشارہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چاکلیٹ کی خواہش کو میگنیشیم کی کمی اور برف کھانے کی خواہش کو آئرن کی کمی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ تاہم انسانی جسم اتنا سادہ نہیں کہ ہر خواہش کی ایک ہی وجہ بتائی جاسکے۔

ماہر غذائیت کے مطابق رات کو میٹھا کھانے کی خواہش کی کوئی ایک نہیں بلکہ کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایسی ہی ایک بڑی وجہ دن بھر مناسب مقدار میں کھانا نہ کھانا ہے۔ اکثر لوگ صبح کا ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں یا کم کھاتے ہیں، دوپہر کا کھانا کم کھاتے ہیں اور شام کو چائے یا کافی پر گزارا کرتے ہیں بھی مناسب غذا نہ لے تو رات تک جسم کو زیادہ بھوک لگ سکتی ہے۔ ایسے میں میٹھا یا فوری توانائی دینے والی چیز کھانے کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ عادت بھی اس خواہش کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو بچپن سے کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ کسی کو کھانے کے بعد گڑ پسند ہوتا ہے، کسی کو چائے کے ساتھ بسکٹ اور کسی کو کھانے کے بعد کھیر یا کسٹرڈ۔ وقت گزرنے کے ساتھ دماغ کھانے کے اختتام پر اس ذائقے کا عادی ہوجاتا ہے اور اسے کھانا مکمل ہونے کے لیے میٹھے کی توقع ہونے لگتی ہے۔

کھانے میں پروٹین اور فائبر کی کمی بھی اس معاملے میں کردارادا کرسکتی ہے۔ اگر رات کا کھانا زیادہ تر چاول، روٹی یا دال جیسی کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں پر مشتمل ہو اور اس میں پروٹین اور فائبر مناسب مقدار میں نہ ہو تو پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس نہیں کرسکتا۔ اس کے نتیجے میں دوبارہ کچھ کھانے، خاص طور پر میٹھی چیز کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے۔

ذہنی دباؤ بھی میٹھا کھانے کی خواہش بڑھا سکتا ہے۔ غذائی ماہر کے مطابق جب انسان پورا دن ذہنی تھکن اور دباؤ میں گزارتا ہے تو دماغ ایسی غذاؤں کی طرف زیادہ مائل ہوسکتا ہے جو فوری خوشی یا سکون کا احساس دیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان میں قوتِ ارادی کمزور ہے بلکہ یہ جسم کا ایک عام ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔

نیند کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے جس پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر کسی شخص کی کئی راتوں تک نیند پوری نہ ہو تو بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز متاثر ہوسکتے ہیں اور میٹھی یا زیادہ ذائقے والی غذائیں کھانے کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔

راشی چودھری نے میگنیشیم کے بارے میں بھی وضاحت کی کہ یہ معدنیات جسم کے کئی اہم کاموں میں حصہ لیتا ہے اور خون میں شوگر کے استعمال اور انسولین کی حساسیت میں کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم ہر شخص میں رات کے کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی خواہش کو صرف میگنیشیم کی کمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق بہتر سوال یہ ہے کہ میٹھا کھانے کی خواہش شروع ہونے سے پہلے پورے دن میں کیا ہوا۔ کیا دن بھر مناسب کھانا کھایا گیا؟ کیا کھانے میں پروٹین کافی تھی؟ کیا نیند پوری ہوئی؟ کیا ذہنی دباؤ زیادہ تھا؟ یا پھر میٹھا کھانا صرف روزانہ کی عادت بن چکا ہے؟ ان سوالات کے جواب خواہش کی اصل وجہ سمجھنے میں زیادہ مدد دے سکتے ہیں۔

میٹھا کھانے کی خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے کوئی غلطی کی ہے یا اس کی قوتِ ارادی کمزور ہے بلکہ اس کی وجہ کبھی غذائی توازن کی کمی، کبھی عادت، کبھی تھکن اور بعض اوقات صرف انسانی فطرت بھی ہوسکتی ہے۔

Gujrat

Overseas

PAKISTAN

Bol Gujrat

Bol Gujrat

Typically replies within an hour

I will be back soon

Bol Gujrat
Hey there 👋
It’s your friend Bol Gujrat. How can I help you?
WhatsApp