اینٹی کرپشن حکام نے سمبڑیال کے علاقہ بلو چک کے رہائشی سابق پولیس کانسٹیبل آصف سپرا کو برطانیہ مقیم اوورسیز پاکستانی کی کروڑوں کی اراضی پر جعلسازی سے قبضہ کیس میں گرفتار کر لیا ۔ عدالت نے مرکزی ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے اسے اینٹی کرپشن پولیس کے حوالے کر دیا۔ سمبڑیال موٹروے کے قریب 7 کنال اراضی کے مالک حبیب الرحمن کی درخواست پر اینٹی کرپشن نے ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کرکے چھاپہ مار کر آصف سپرا کو گرفتار کر لیا ۔مقدمہ میں امجد فاروق ، اعظم ، نیاز ، انور، افتخار اور پرائیویٹ ایجنٹ ارسلان حمید کو بھی نامزد کیا گیا ہے ۔اراضی کی غیر قانونی منتقلی اور جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث متعلقہ سب رجسٹرار، پٹواری اور رجسٹری محرر کو بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ۔ آصف سپرا 1999 میں پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا تاہم چند ہی سال میں نوکری چھوڑ کر جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ زمینوں پر قبضے ، غیر قانونی اسلحہ اور ریت کے ٹھیکوں سے اس نے اربوں کے اثاثے بناکر دبئی میں کاروبار قائم کر لیا۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرپشن رانا شبیر اشرف کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم سے مزید تفتیش کی جائیگی، دیگر نامزد ملزموں ، پرائیویٹ ایجنٹ اور ملوث سرکاری عملے کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ۱۲۰ ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان
مشرق وسطیٰ میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کے پیش نظر امریکی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے خبردار...
Read more








































