سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن یعنی اس سرحد کے ‘نشانات’ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آ سکتی۔
بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ اہم پیش رفت 2 بلیک ہولز کے انتہائی شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے سے ممکن ہوئی۔
ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آ سکتی، جس کی وجہ سے اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب 2 بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بلیک ہول بن جاتے ہیں تو اس عمل کے دوران کائنات میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں گزشتہ ایک دہائی سے سائنسدان ریکارڈ کر رہے ہیں۔








































