سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے امریکا۔ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد وقفہ ہوا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے اختتام پر چاروں وفود مشاورت کے لیے اپنے کمروں میں واپس چلے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں لبنان کی صورت حال اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی، اسی دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکا-ایران مذاکرات کے پہلے دور میں لبنان کی صورت حال اور جنگ بندی سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
رپورٹ کے مطابق اگلے مراحل میں دن بھر مختلف موضوعات پر نشستیں متوقع ہیں، جن میں خطے کی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے العریبیہ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کے اعلان تک کسی دوسرے مسئلے پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔








































