امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم  نے چپ ڈیزائن میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل میں ایک ناخن جتنی چھوٹی سلیکون چپ میں 100ارب ٹرانزسٹرز نصب کرنا ممکن ہو سکے گا۔

بی بی سی کے مطابق اس وقت چپ انڈسٹری میں جدید ترین چپس کا سائز تقریباً 2 نینو میٹر سمجھا جاتا ہے جہاں ایک نینو میٹر ایک میٹر کا ایک اربواں حصہ ہوتا ہے۔ تاہم آئی بی ایم کا دعویٰ ہے کہ اس کی نئی نینو اسٹیک ٹیکنالوجی تقریباً 0.7 نینو میٹر کے برابر ہے جو اسے دنیا کی پہلی معلوم چپ ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو ایک نینو میٹر سے بھی کم سطح پر کام کرے۔

اگرچہ کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیداوار تک پہنچنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن ابتدائی تجربات میں اس کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔

آئی بی ایم کے مطابق نئی چپ نے آزمائشی مراحل میں کمپنی کی 2 نینو میٹر چپ کے مقابلے میں 50 فیصد بہتر کارکردگی اور 70 فیصد زیادہ توانائی بچت کا مظاہرہ کیا۔

کمپنی نے یاد دلایا کہ 2021 میں متعارف کرائی گئی اس کی 2 نینو میٹر چپ ٹیکنالوجی نے بھی کارکردگی اور توانائی کے استعمال میں نمایاں بہتری دکھائی تھی۔

آئی بی ایم ریسرچ کے ڈائریکٹر اور آئی بی ایم فیلو جے گیمبیٹا نے اس پیشرفت کو چپ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نانو اسٹیک آرکیٹیکچر کے ذریعے صرف ٹرانزسٹرز کو چھوٹا نہیں بنایا جا رہا بلکہ چپس کی تعمیر کے پورے طریقہ کار کو نئی شکل دی جا رہی ہے جس سے کارکردگی اور توانائی کی بچت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔

ٹرانزسٹرز کیوں اہم ہیں؟

ٹرانزسٹرز سلیکون چپس کے بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، گیمنگ کنسولز اور دیگر الیکٹرانک آلات کو کمپیوٹنگ طاقت فراہم کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سینٹرز میں موجود طاقتور کمپیوٹرز کے لیے بھی زیادہ طاقتور چپس کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جتنے زیادہ ٹرانزسٹرز ایک چپ میں نصب کیے جا سکیں چپ اتنی ہی زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔

مور کا قانون اور نئی چیلنجز

کئی دہائیوں سے کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک اصول رائج رہا ہے جسے مور کا قانون کہا جاتا ہے جس کے مطابق ہر 2 سال بعد ایک چپ پر نصب کیے جانے والے ٹرانزسٹرز کی تعداد تقریباً دگنی ہو جاتی ہے۔

تاہم اب جبکہ بعض چپس میں اربوں ٹرانزسٹرز موجود ہیں اس رفتار کو برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مور کا قانون ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہ سکتا۔

اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے چپ ساز کمپنیاں روایتی افقی ڈیزائن کے بجائے تھری ڈی ڈیزائنز کی جانب بڑھ رہی ہیں، جہاں ٹرانزسٹرز کو اوپر کی جانب ترتیب دے کر زیادہ جگہ پیدا کی جاتی ہے۔

نانو اسٹیک کیا مختلف کر رہا ہے؟

آئی بی ایم کا نانو اسٹیک ڈیزائن صرف ٹرانزسٹرز کو عمودی شکل دینے تک محدود نہیں بلکہ انہیں متعدد تہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے اوپر نصب کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔

Gujrat

Overseas

PAKISTAN

Bol Gujrat

Bol Gujrat

Typically replies within an hour

I will be back soon

Bol Gujrat
Hey there 👋
It’s your friend Bol Gujrat. How can I help you?
WhatsApp